قرآن - 19:23 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

23
فَأَجَآءَهَا ٱلۡمَخَاضُ إِلَىٰ جِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ قَالَتۡ يَٰلَيۡتَنِي مِتُّ قَبۡلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسۡيٗا مَّنسِيّٗا

Transliteration: (Fa ajaaa 'ahal makhaadu ilaa jiz'in nakhlati qaalat yaa laitanee mittu qabla haazaa wa kuntu nasyam mansiyyaa)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ-قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا(23) || پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر بچے کی پیدائش کا درد اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا تو اس نے کہا: اے کاش کہ میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں کوئی بھولی بسری ہوجاتی۔ || پھر بچے کی پیدائش کا درد اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا تو اس نے کہا: اے کاش کہ میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں کوئی بھولی بسری ہوجاتی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 23 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ:پھر بچے کی پیدائش کا درد اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔} جب ولادت کاوقت قریب آیا اور درد کی شدت زیادہ ہوئی تو حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکھجور کے ایک سوکھے درخت کے پاس آکر بیٹھ گئیں۔ اب درد کی بھی شدّت تھی اور دوسری طرف مستقبل کے معاملات بھی تھے کہ اگرچہ میں  تو مطمئن ہوں  مگرلوگوں  کوکیسے مطمئن کروں  گی چنانچہ اسی پریشانی کی شدّت سے کہا کہ اے کاش میں  اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی یابھولی بسری ہوجاتی تا کہ یہ تمام معاملات پیش نہ آتے ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now