قرآن - 19:53 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

53
وَوَهَبۡنَا لَهُۥ مِن رَّحۡمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيّٗا

Transliteration: (Wa wahabnaa lahoo mir rahmatinaaa akhaahu Haaroona Nabiyyaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا(53) || اور اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون عطا کیا غیب کی خبریں بتانے والا (نبی)۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔ || اور ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 53 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا:اورہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔} یعنی جب حضر ت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے  اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے گھر والوں  میں  سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا تو  اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور اپنی رحمت سے حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت عطا کی۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۲۳۸)

آیت’’وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَا ‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… نبوت کسبی نہیں  یعنی اپنی کوشش سے کسی کو نبوت نہیں  مل سکتی بلکہ یہ  اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے جسے  اللہ تعالیٰ چاہے صرف اسے ملتی ہے ۔

(2)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  قرب کاایسا مقام حاصل ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کے صدقے ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت عطافرما دی۔اس سے  اللہ تعالیٰ کے پیاروں  کی عظمت کا پتہ لگا کہ ان کی دعا سے وہ نعمت ملتی ہے جو بادشاہوں  کے خزانوں  میں  نہ ہو تو اگر ان کی دعا سے اولاد یا دنیا کی دیگر نعمتیں  مل جائیں  تو کیا مشکل ہے۔البتہ اب ختمِ نبوت ہوچکی تو اب کسی کو نبوت نہیں  مل سکتی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now