قرآن - 47:17 سورہ محمد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

17
وَٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ زَادَهُمۡ هُدٗى وَءَاتَىٰهُمۡ تَقۡوَىٰهُمۡ

Transliteration: (Wallazeenah tadaw zaadahum hudanw wa aataahum taqwaahum)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ(17) || اور جنہوں نے راہ پائی اللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جنہوں نے ہدایت پائی تواللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمادی اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔ || اور جنہوں نے ہدایت پائی تواللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمادی اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ محمد آیت 17 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا: اور جنہوں  نے ہدایت پائی۔} اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے منافق کے بارے میں  بیان فرمایا کہ وہ سن کر نفع نہیں  اٹھاتا بلکہ وہ نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا رہتا ہے اور اس آیت میں  مومن کا حال بیان فرما رہا ہے جس نے سن کر نفع اٹھایا اور ہدایت پائی، چنانچہ ارشاد فرمایا :وہ ایمان والے جنہوں  نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کلام غور سے سنا اور اس سے نفع اُٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بصیرت،علم اور سینے کی کشادگی میں  مزید اضافہ فرما دیا اور انہیں  پرہیز گاری عطا فرمائی ۔پرہیز گاری عطا فرمانے سے مراد پرہیز گاری کی توفیق دینا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ اُنہیں  پرہیزگاری کی جزا دی اور اس کا ثواب عطا فرمایا۔(خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴ / ۱۳۷-۱۳۸، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۱۳۵، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کا صلہ مزید نیکی کی توفیق اور ہدایت کا صلہ مزید ہدایت ملنا بھی ہوتا ہے۔ یونہی علم سیکھنے کا صلہ مزید علم کی توفیق ملنا بھی ہے اور علم سیکھنے پر اللہ تعالیٰ مزید علم عطافرماتا ہے اور دیگر عُلوم کی بھی راہ دکھاتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now