قرآن - 47:35 سورہ محمد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

35
فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمۡ وَلَن يَتِرَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﳓ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﳓ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ(35) || تو تم سُستی نہ کرو اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔ || تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ محمد آیت 35 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ: تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو۔} یہاں  آیت میں  اگرچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے خطاب فرمایا جارہا ہے لیکن اس حکم میں  تمام مسلمان شامل ہیں  اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں  کے اعمال باطل کر دے گا اور ان کی مغفرت نہیں  فرمائے گا تو تم دشمن کے مقابلے میں  کمزوری نہ دکھاؤ اور کفار کو خود صلح کی طرف دعوت نہ دو کیونکہ اس میں  ذلّت ہے اوران سے جنگ کرو،اس میں  تم ہی ان پر غالب ہو گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور نصرت سے تمہارے ساتھ ہے تو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہی غالب آئے گا اور یا درکھو کہ اللہ  تعالیٰ ہرگز تمہارے اعمال میں  تمہیں  نقصان نہ دے گا بلکہ تمہیں  اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا ۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۳۵، ۴ / ۱۴۲-۱۴۳، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۳۵، ۸ / ۵۲۳، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now