قرآن - 47:9 سورہ محمد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

9
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَرِهُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ(8)ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ(9) || اور جنہوں نے کفر کیا تو اُن پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے۔ یہ اس لیے کہ انہیں ناگوار ہوا جو اللہ نے اُتارا تو اللہ نے ان کا کیا دھرا اکارت کیا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جنہوں نے کفر کیا تو ان کیلئے تباہی و بربادی ہے اور اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے۔ یہ (سزا)اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کئے ہوئے کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔ || اور جنہوں نے کفر کیا تو ان کیلئے تباہی و بربادی ہے اور اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے۔ یہ (سزا)اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کئے ہوئے کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ محمد آیت 9 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور جنہوں  نے کفر کیا۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے کفر کے دو نتیجے بیان فرمائے ہیں  ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنہوں  نے کفر کیا تو ان کیلئے دنیا میں  تباہی و بربادی ہے اور آخرت میں  اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردیئے ۔انہیں یہ سزااس وجہ سے ملی ہے کہ انہوں  نے اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے قرآن کو ناپسند کیا کیونکہ اس میں  شہوات اور لذّات کو ترک کرنے جبکہ طاعات اور عبادات میں  مَشَقَّتیں  اٹھانے کے احکام ہیں  جو نفس پر شاق ہوتے ہیں  توان کے اس کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے نیک اعمال برباد کردئیے۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۴ / ۱۳۵، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۸ / ۵۰۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now