قرآن - 71:27 سورہ نوح ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

27
إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارٗا

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا(26)اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا(27) || اور نوح نے عرض کی اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بے شک اگر تو انہیں رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب!زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بیشک اگر تو انہیں چھوڑدے گا تویہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور یہ اولاد بھی ایسی ہی جنیں گے جو بدکار ،بڑی ناشکری ہوگی۔ || اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب!زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بیشک اگر تو انہیں چھوڑدے گا تویہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور یہ اولاد بھی ایسی ہی جنیں گے جو بدکار ،بڑی ناشکری ہوگی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ نوح آیت 27 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ: اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب!} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے کے بعد اور کئی صدیوں  تک تبلیغ کرنے کے باوجود قوم کے کفر پر ہی قائم رہنے کی وجہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ ہدایت پر آنے والے نہیں  تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض کی ’’اے میرے پروردگار! عَزَّوَجَلَّ، زمین پر ان لوگوں  میں  سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ جنہوں  نے تیرے ساتھ کفر کیا اور تیری طرف سے آنے والے احکامات کا انکار کیا۔بیشک اگر تو ان سب کو یا ان میں  سے بعض کو زمین پر چھوڑدے گا اور ہلاک نہ فرمائے گا تویہ تیرے بندوں  کو راہِ حق سے گمراہ کردیں  گے اوریہ اولاد بھی ایسی ہی جنیں  گے جو بدکار اوربڑی ناشکری ہوگی۔( روح البیان، نوح، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۱۰ / ۱۸۴)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now