قرآن - 38:25 سورہ ص ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

25
فَغَفَرۡنَا لَهُۥ ذَٰلِكَۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ

Transliteration: (Faghafarnaa lahoo zaalik; wa inna lahoo 'indanaa lazulfaa wa husna ma aab)

ترجمہ: کنزالایمان - فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَؕ-وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ(25) || تو ہم نے اسے یہ معاف فرمادیا اور بے شک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو ہم نے اسے یہ معاف فرمادیا اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانہ ہے۔ || تو ہم نے اسے یہ معاف فرمادیا اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانہ ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ص آیت 25 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ: تو ہم نے اسے یہ معاف فرما دیا۔} یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا مقام و مرتبہ دیگر لوگوں  کے مقابلے میں  انتہائی بلند ہے اسی وجہ سے بہت سے وہ کا م جو دوسرے لوگوں  کے لئے تو رَوا ہوتے ہیں  لیکن انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان اور ان کے مقام و مرتبے کے لائق نہیں  ہوتے ،اسی لئے جب ان سے کوئی خلافِ شان کام واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ کے ان مقبول بندوں  کی تربیت فرما دیتا ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  انتہاء درجے کی عاجزی و اِنکساری کرتے ہیں  اور یہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے مقبول بندوں  کا معاملہ ہے، وہ جیسے چاہے اپنے مقبول بندوں  کی تربیت فرمائے اور یہ جیسے چاہیں  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عاجزی و اِنکساری کا اظہار کریں  ، عام لوگوں  کو یہ حق حاصل نہیں  ہے کہ وہ ان کے خلافِ شان کاموں  اور ان پر کئے گئے عجز و اِنکسار کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف زبانِ طعن دراز کریں  اور ان کی عِصمَت پر اعتراضات کرنا شروع کر دیں  ،یہ ایمان کے لئے زہر ِقاتل سے بھی زیادہ خطرناک ہے ،اس سے تمام مسلمانوں  کو بچنا چاہئے ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now