Transliteration: (Wa wahabnaa lahoo ahlahoo wa mislahum ma'ahum rahmatan minna wa zikraa li ulil albaab)
{وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ: اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا فرمادئیے۔} حضرت حسن اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جو اولاد مرچکی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو دوبارہ زندہ کیا اور اپنے فضل و رحمت سے اتنے ہی اور عطا فرمائے۔( تفسیرطبری، ص، تحت الآیۃ: ۴۳، ۱۰ / ۵۹۰، ملخصاً)
{وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ: اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے۔} یعنی ہم نے حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آزمائش میں مبتلاء کیا تو انہوں نے صبر کیا،پھر ہم نے ان کی آزمائش ختم فرما دی اور ان کی تکلیفیں دور کر دیں تو انہوں نے شکر کیا، اس میں عقلمندوں کے لئے نصیحت ہے۔( خازن، ص، تحت الآیۃ: ۴۳، ۴ / ۴۳) کہ وہ مصیبت آنے پر واویلا کرنے کی بجائے صبر کریں اور مصیبت سے خلاصی پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ص آیت 43 تفسیر