قرآن - 34:13 سورہ سبإ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

13
يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرٗاۚ وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ

Transliteration: (Ya'maloona lahoo ma yashaaa'u mim mahaareeba wa tamaaseela wa jifaanin kaljawaabi wa qudoorir raasiyaat; i'maloo aala Daawooda shukraa; wa qaleelum min 'ibaadiyash shakoor)

ترجمہ: کنزالایمان - یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍؕ-اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ-وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ(13) || اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے حوضوں کے برابر لگن اور لنگردار دیگیں اے داود والوشکر کرو اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہ جنات سلیمان کے لیے ہر وہ چیز بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا،اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے بڑے حوضوں کے برابر پیالے اور ایک ہی جگہ جمی ہوئی دیگیں ۔ اے داؤد کی آل!شکر کرو اور میرے بندوں میں شکر والے کم ہیں ۔ || وہ جنات سلیمان کے لیے ہر وہ چیز بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا،اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے بڑے حوضوں کے برابر پیالے اور ایک ہی جگہ جمی ہوئی دیگیں ۔ اے داؤد کی آل!شکر کرو اور میرے بندوں میں شکر والے کم ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ سبإ آیت 13 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ: وہ جنات سلیمان کے لیے ہر وہ چیز بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا۔} اس آیت میں  بیان ہوا کہ جنات حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے ہر وہ چیز بناتے تھے جو وہ چاہتے تھے ۔ان میں  سے چند چیزیں  یہ ہیں :

(1)… اونچے اونچے محل ،عالی شان عمارتیں  ، مسجدیں  اور انہیں  میں  سے بیت المقدس بھی ہے۔

 (2)… تانبے ،بلور اور پتھر وغیرہ سے درندوں  اور پرندوں  وغیرہ کی تصویریں  ۔یاد رہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی شریعت میں  تصویر بنانا حرام نہ تھا۔

(3)… بڑے بڑے حوضوں  کے برابر کھانے کے پیالے۔یہ پیالے اتنے بڑے ہوتے تھے کہ ایک پیالے میں  ایک ہزار آدمی کھانا کھاتے تھے۔

(4)… ایک ہی جگہ جمی ہوئی دیگیں  ۔یہ دیگیں اپنے پایوں  پر قائم تھیں  اور بہت بڑی تھیں  حتّٰی کہ اپنی جگہ سے ہٹائی نہیں  جاسکتی تھیں ،لوگ سیڑھیاں  لگا کر ان پر چڑھتے تھے اوریہ یمن میں  تھیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے فرمایا ’’اے داؤد کی آل! تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے ان نعمتوں  کا شکر ادا کروجو اس نے تمہیں  عطا فرمائی ہیں  اور میرے بندوں  میں  شکر کرنے والے کم ہیں۔(جلالین، السبا، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۳۶۰،  مدارک، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۹۵۸، خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳ / ۵۱۹، ملتقطاً)

آیت ’’اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں  :

(1)… شکر بڑی عبادت ہے جو گزشتہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین میں  بھی جاری تھی۔

(2)… جس قدررب تعالیٰ کی نعمتیں  بندے پر زیادہ ہوں  اسی قدر شکر زیادہ کرناچاہیے۔

(3)… نیک بندے اگرچہ تھوڑے ہوں  ،یہ برے بندوں  سے افضل ہیں  خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now