قرآن - 34:22 سورہ سبإ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

22
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا لَهُمۡ فِيهِمَا مِن شِرۡكٖ وَمَا لَهُۥ مِنۡهُم مِّن ظَهِيرٖ

Transliteration: (Qulid 'ul lazeena za'amtum min doonil laahi laa yamlikoona misqaala zarratin fissamaawaati wa laa fil ardi wa maa lahum feehimaa min shirkinw wa maa lahoo minhum min zaheer)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِۚ-لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ(22) || تم فرماؤ پکارو انہیں جنھیں اللہ کے سوا سمجھے بیٹھے ہو اور وہ ذرّہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا اِن دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ:انہیں پکارو جنہیں اللہ کے سواتم (معبود) سمجھتے ہو ،وہ آسمانوں میں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگارہے۔ || تم فرماؤ:انہیں پکارو جنہیں اللہ کے سواتم (معبود) سمجھتے ہو ،وہ آسمانوں میں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگارہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ سبإ آیت 22 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ: تم فرماؤ۔} شکر کرنے والوں  اور ناشکری کرنے والوں  کے حالات اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد اب کفارِ مکہ سے کلام کیا جارہا ہے۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مکہ مکرمہ کے کافروں  سے فرما دیں  کہ جن بتوں  وغیرہ کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنامعبود سمجھتے ہو انہیں  پکارو تاکہ وہ تم پر نازل ہونے والی مصیبتیں  دور کردیں  لیکن ایسا نہیں  ہوسکتا کیونکہ وہ آسمانوں  میں  اور زمین میں ذرہ برابر کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں  ہیں  اور نہ ان بتوں کا آسمان اور زمین میں  کچھ حصہ ہے اور نہ ان بتوں  میں  سے کوئی اللہ تعالیٰ کا مددگار ہے۔( تفسیرکبیر، سبأ، تحت الآیۃ: ۲۲، ۹ / ۲۰۳، خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳ / ۵۲۲، ملتقطاً)

            یاد رہے کہ اس آیت میں  کفر کی اجازت نہیں  بلکہ کفارکے عقیدے کی برائی کا بیان ہے نیز اس آیت میں  نفع و نقصان کا مالک نہ ہونا بتوں  کے لئے بیان کیا گیا ہے ،اللہ تعالیٰ کے اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَولیاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے ساتھ اس آیت کا کوئی تعلق نہیں  کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطاسے مخلوق کو نفع پہنچانے اور ان سے نقصان دور کرنے کی طاقت رکھتے ہیں  اور اس کے شواہد قرآن و حدیث میں  بکثرت مقامات پر مذکور ہیں  جیسے سرکار ِ دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کوثر کا مالک کیا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مردے زندہ کرنے اور بیماروں  کو شفا دینے کی طاقت دی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now