قرآن - 34:36 سورہ سبإ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

36
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ

Transliteration: (Qul inna Rabbee yabsutur rizqa limai yashaaa'u wa yaqdiru wa laakinna aksaran naasi laa ya'lamoon (section 4))

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(36) || تم فرماؤ بے شک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ: بیشک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کرتا ہے اور تنگ فرماتا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ || تم فرماؤ: بیشک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کرتا ہے اور تنگ فرماتا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ سبإ آیت 36 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ: تم فرماؤ۔}اللہ تعالیٰ نے مالداروں کے اس باطل خیال کا رد کرتے ہوئے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرمادیں  بیشک میرا رب عَزَّوَجَلَّ آزمائش اور امتحان کے طور پر جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کرتا اور تنگ فرماتا ہے لہٰذا دنیا میں  مال و دولت اور عیش و عشرت کی بہتات اللہ تعالیٰ کی رضا کی دلیل نہیں  اور ایسے ہی مال و دولت کی تنگی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی دلیل نہیں ۔یہ اس کی حکمت ہے کہ کبھی وہ گنہگار پر مال ودولت کی وسعت کرتا ہے اور کبھی فرمانبردار پر تنگی کر دیتا ہے۔اس لئے آخرت کے ثواب کو دنیا کی معیشت پر قیاس کرنا غلط و بیجاہے۔(مدارک، سبأ، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۹۶۵، خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۵۲۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now