Transliteration: (Qul maa sa-altukum min ajrin fahuwa lakum in ajriya illaa 'alal laahi wa Huwa 'alaa kulli shai'in Shaheed)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفار سے فرما دیں کہ میں نصیحت و ہدایت اور تبلیغ ورسالت پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، اگر میں نے تم سے اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ مانگا ہو تو وہ تمہیں ہی مبارک ہو ،اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھو، میرا اجر و ثواب تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمّۂ کرم پر ہے ۔اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے لہٰذا وہ جانتا ہے کہ میں نے تمہیں نصیحت کرنے اور ا س کی طرف بلانے پر صرف اسی سے اجر طلب کیا ہے۔( مدارک، سبأ، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۹۶۷، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ سبإ آیت 47 تفسیر