Transliteration: (Wa qaalal lazee najaa minhumaa waddakara ba'da ummatin ana unabbi'ukum bi ta'weelihee fa-arsiloon)
{وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا:اور دو قیدیوں میں سے بچ جانے والے نے کہا۔} یعنی شراب پلانے والا کہ جس نے اپنے ساتھی کچن کے انچارج کی ہلاکت کے بعد قید سے نجات پائی تھی اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا تھا کہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس سے فرمایا تھا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا، اس نے کہا ’’ میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا، تم مجھے قید خانے میں بھیج دو، وہاں خواب کی تعبیر کے ایک عالم ہیں ،چنانچہ بادشاہ نے اسے بھیج دیا اور وہ قید خانہ میں پہنچ کر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں عرض کرنے لگا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳ / ۲۳، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 45 تفسیر