Transliteration: (Wa lammaa fatahoo mataa 'ahum wajadoo bidaa'atahum ruddat ilaihim qaaloo yaaa abaanaa maa nabghee; haazihee bida 'atunaa ruddat ilainaa wa nameeru ahlanaa wa nahfazu akhaanaa wa nazdaadu kaila ba'eer; zaalika kailuny yaseer)
{ وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ:اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا۔} یعنی جب انہوں نے اپنا وہ سامان کھولا جو مصر سے لائے تھے تو اس میں اپنی رقم کو بھی موجود پایا جو انہیں واپس کر دی گئی تھی ،رقم دیکھ کر کہنے لگے ’’اے ہمارے والد محترم ! اس سے زیادہ کرم و احسان اور کیا ہو گا کہ بادشاہ نے سامان کے ساتھ وہ رقم بھی ہمیں واپس کر دی ہے جوہم نے سامان کی قیمت کے طور پر دی تھی لہٰذا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمارے بھائی کو ساتھ جانے کی اجازت دے دیں تاکہ ہم جائیں اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ خرید کر لائیں اور ہم اپنے بھائی بنیامین کی حفاظت کریں گے اور ہم اپنے بھائی کی وجہ سے اس کے حصے کا ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں ، یہ اونٹ کے بوجھ کا غلہ دینا بادشاہ کے لئے بہت آسان بوجھ ہے کیونکہ اس نے ہم پر اس سے زیادہ کرم و احسان فرمایا ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳ / ۳۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 65 تفسیر