Transliteration: (Falammaa jahhazahum bijahaazihim ja'alas siqaayata fee rahli akheehi summa azzana mu'azzinun ayyatuhal'eeru innakum lasaariqoon)
{فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ:پھر جب انہیں ان کا سامان مہیا کردیا۔} یعنی پھر جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ان کا سامان مہیا کر دیا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیدیا اور ایک اونٹ کا بوجھ بنیامین کے لئے خاص کر دیا تو اپنے بھائی بنیامین کی بوری میں بادشاہ کا وہ پیالہ رکھ دیا جس میں وہ پانی پیتا تھا، وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس میں جواہرات لگے ہوئے تھے اور اس وقت اس پیالے سے غلہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ۔ قافلہ کنعان جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا ۔جب قافلہ شہر سے باہر جاچکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کومعلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے، اُن کے خیال میں یہی آیا کہ یہ پیالہ قافلے والے لے گئے ہیں ، چنانچہ اُنہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے، ان میں سے ایک مُنادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو۔(روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۰، ۴ / ۲۹۸، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳ / ۳۳-۳۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 70 تفسیر