Transliteration: (Qaaloo tallaahi laqad 'alimtum maa ji'na linufsida fil ardi wa maa kunnaa saariqeen)
{قَالُوْا:اعلان کرنے والوں نے کہا۔} ارشاد فرمایا کہ اعلان کرنے والوں نے کہا ’’اگر تم اس بات میں جھوٹے ہوئے اور پیالہ تمہارے پاس نکلے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۵۳۹)
{قَالُوْا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں نے کہا’’اِس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ ملے تو اِس کے بدلے میں وہ اپنی گردن چیز کے مالک کے سپرد کر دے اور وہ مالک ایک سال تک اسے غلام بنائے رکھے ۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں چونکہ چوری کی یہی سزا مقرر تھی اس لئے انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۵، ۳ / ۳۴-۳۵)پھر یہ قافلہ مصر لایا گیا اور ان صاحبوں کو حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دربار میں حاضر کیا گیا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 73 تفسیر