قرآن - 12:79 سورہ يوسف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

79
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأۡخُذَ إِلَّا مَن وَجَدۡنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّظَٰلِمُونَ

Transliteration: (Qaala ma'aazal laahi an naakhuza illaa manw wajadnaa mataa'anaa 'indahoo innaaa izal lazaalimoon)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(78)قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤۙ-اِنَّـاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ(79) || بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو بے شک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں ۔ کہا خدا کی پناہ کہ ہم لیں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا جب تو ہم ظالم ہوں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان انہوں نے کہا: اے عزیز! بیشک اس کے بہت بوڑھے والد ہیں تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کولے لیں ، بیشک ہم آپ کواحسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں ۔ یوسف نے فرمایا: اللہ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں ۔ (ایسا کریں ) جب تو ہم ظالم ہوں گے۔ || انہوں نے کہا: اے عزیز! بیشک اس کے بہت بوڑھے والد ہیں تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کولے لیں ، بیشک ہم آپ کواحسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں ۔ یوسف نے فرمایا: اللہ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں ۔ (ایسا کریں ) جب تو ہم ظالم ہوں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يوسف آیت 79 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالُوْا:انہوں  نے کہا۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں  اگرچہ چور کی سزا یہ تھی کہ اسے غلام بنا لیا جائے لیکن فدیہ لے کر معاف کر دینا بھی جائز تھا، اس لئے بھائیوں  نے کہا ’’اے عزیز! اس کے والد عمر میں  بہت بڑے ہیں ، وہ اس سے محبت رکھتے ہیں  اور اسی سے ان کے دل کو تسلی ہوتی ہے۔ آپ ہم میں  سے کسی ایک کو غلام بنا کر یا فدیہ ادا کرنے تک رہن کے طور پر رکھ لیں  بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں  کہ آپ نے ہمیں  عزت دی، کثیر مال ہمیں  عطا کیا، ہمارا مطلوب اچھی طرح پورا ہوا اور ہمارے غلے کی قیمت بھی ہمیں  لوٹا دی۔(تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶ / ۴۹۱، جلالین، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۱۹۶، ملتقطاً)

{قَالَ:فرمایا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’اس بات سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو پکڑ یں  کیونکہ تمہارے فیصلہ کے مطابق ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں  جس کے کجاوے میں  ہمارا مال ملا ہے، اگر ہم اس کی بجائے دوسرے کو لیں  تو یہ تمہارے دین میں  ظلم ہے ، لہٰذا تم ا س چیز کا تقاضا کیوں  کرتے ہو جس کے بارے میں  جانتے ہو کہ وہ ظلم ہے ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۵۴۰)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now