قرآن - 20:101 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

101
خَٰلِدِينَ فِيهِۖ وَسَآءَ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ حِمۡلٗا

Transliteration: (Khaalideena feehi wa saaa'a lahum Yawmal Qiyaamati himlaa)

ترجمہ: کنزالایمان - مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًا(100)خٰلِدِیْنَ فِیْهِؕ-وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًا(101) || جو اس سے منہ پھیرے تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی برا بوجھ ہوگا۔ ترجمہ: کنزالعرفان جو اس سے منہ پھیرے گاتو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔ || جو اس سے منہ پھیرے گاتو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 101 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ:جو اس سے منہ پھیرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ جو اس قرآن سے منہ پھیرے اور اس پر ایمان نہ لائے اور اس کی ہدایتوں  سے فائدہ نہ اٹھائے تووہ قیامت کے دن گناہوں  کا ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔(بغوی، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳ / ۱۹۴)

{خٰلِدِیْنَ فِیْهِ:وہ ہمیشہ اس میں  رہیں  گے۔} یعنی وہ ہمیشہ اس گناہ کے عذاب میں  رہیں  گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔(خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳ / ۲۶۳)

            یہاں  یہ بات یاد رہے ہمیشہ عذاب میں  وہ شخص رہے گا جس کا خاتمہ کفر کی حالت میں  ہوا ہو گا اور جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا وہ اگرچہ کتنا ہی گنہگار ہواسے ہمیشہ عذاب نہ ہوگا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now