Transliteration: (Faatiyaahu faqoolaaa innaa Rasoolaa Rabbika fa arsil ma'anaa Banee Israaa'eela wa laa tu'azzibhum qad ji'naaka bi Aayatim mir Rabbika wassa laamu 'alaa manit taba'al hudaa)
{فَاْتِیٰهُ:پس تم اس کے پاس جاؤ ۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ تم ڈرو نہیں اور فرعون کے پاس جاکر کہو : ہم تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کے بھیجے ہوئے ہیں ،لہٰذا اے فرعون ، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں بندگی و اَسیری سے رہا کر دے اور ان سے محنت و مشقت کے سخت کام لے کر انہیں تکلیف نہ دے۔ بیشک ہم تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے معجزات لے کر آئے ہیں جو ہماری نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں ۔ فرعون نے کہا: وہ معجزات کیا ہیں ؟ تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہاتھ روشن ہونے کا معجزہ دکھایا (اور فرمایا) جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے لئے دونوں جہان میں سلامتی ہے اور وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو ہماری نبوت کو اور ان اَحکام کو جھٹلائے جو ہم لائے ہیں اور ہماری ہدایت سے منہ پھیرے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸، ص۶۹۲، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸، ص۲۶۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 47 تفسیر