قرآن - 20:47 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

47
فَأۡتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبۡهُمۡۖ قَدۡ جِئۡنَٰكَ بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكَۖ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلۡهُدَىٰٓ

Transliteration: (Faatiyaahu faqoolaaa innaa Rasoolaa Rabbika fa arsil ma'anaa Banee Israaa'eela wa laa tu'azzibhum qad ji'naaka bi Aayatim mir Rabbika wassa laamu 'alaa manit taba'al hudaa)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْؕ-قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَؕ-وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى(47)اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى(48) || تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولادِ یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بیشک ہماری طرف وحی ہوئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔ ترجمہ: کنزالعرفان پس تم اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لائے ہیں اوراس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔ || پس تم اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لائے ہیں اوراس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 47 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاْتِیٰهُ:پس تم اس کے پاس جاؤ ۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ تم ڈرو نہیں  اور فرعون کے پاس جاکر کہو : ہم تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کے بھیجے ہوئے ہیں  ،لہٰذا اے فرعون ، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں بندگی و اَسیری سے رہا کر دے اور ان سے محنت و مشقت کے سخت کام لے کر انہیں  تکلیف نہ دے۔ بیشک ہم تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے معجزات لے کر آئے ہیں  جو ہماری نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں ۔ فرعون نے کہا: وہ معجزات کیا ہیں ؟ تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہاتھ روشن ہونے کا معجزہ دکھایا (اور فرمایا) جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے لئے دونوں  جہان میں  سلامتی ہے اور وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو ہماری نبوت کو اور ان اَحکام کو جھٹلائے جو ہم لائے ہیں  اور ہماری ہدایت سے منہ پھیرے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸، ص۶۹۲، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸، ص۲۶۳، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now