Transliteration: (Afalaa yarawna allaa yarji'u ilaihim qawlanw wa laa yamliku lahum darranw wa laa naf'aa (section 4))
{اَفَلَا یَرَوْنَ:تو کیا وہ نہیں دیکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ بچھڑے کو پوجنے والے کیا اس بات پر غور نہیں کرتے کہ وہ بچھڑا انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ہی وہ ان سے کسی نقصان کو دور کر سکتا ہے اور نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکتا ہے اور جب وہ بات کا جواب دینے سے عاجز ہے اور نفع نقصان سے بھی بے بس ہے تو وہ معبود کس طرح ہوسکتا ہے۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳ / ۲۶۱، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۷۰۰، ملتقطاً)
اس آیت سے معلوم ہو اکہ روشن آیات اور معجزات دیکھنے کے بعد بصیرت کا اندھا پن اور عقل والوں کی عقل و فَہم کا سَلب ہو جانا بہت بڑی بد بختی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 89 تفسیر