قرآن - 36:10 سورہ يس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

10
وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(10) || اور اُنہیں ایک سا ہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور تمہارا اُنہیں ڈرانا اور نہ ڈرانا ان پر برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ || اور تمہارا اُنہیں ڈرانا اور نہ ڈرانا ان پر برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يس آیت 10 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ: اور تمہارا انہیں  ڈرانا اور نہ ڈرانا ان پر برابر ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن کافروں  کا کفر پرجمے رہنا تقدیرِ الٰہی میں  لکھا ہوا ہے آپ کا انہیں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے حق میں  برابر ہے،یہ انہیں  کوئی نفع نہ دے گا اوروہ کسی صورت ایمان نہیں  لائیں  گے۔ کافروں  کا ایمان نہ لانا اس وجہ سے نہیں  کہ خدا نے انہیں  کفر پر ڈٹے رہنے پر مجبور کردیا تھاکہ وہ چاہتے بھی تو ایمان نہ لا پاتے بلکہ خود ان کافروں  نے ضدو عناد کی وجہ سے حق قبول کرنے کی صلاحیت ختم کرلی تھی۔

            یاد رہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کافروں  کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اپنے حق میں  نہ ڈرانے کے برابر نہیں  ہے کیونکہ ڈر سنا کر آپ نے تبلیغ کی ذمہ داری پوری کر دی اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تبلیغ کرنے کا ثواب ملے گا۔( روح البیان، یس، تحت الآیۃ: ۱۰، ۷ / ۳۷۳، تفسیر کبیر، یس، تحت الآیۃ: ۱۰، ۹ / ۲۵۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now