قرآن - 36:30 سورہ يس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

30
يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِۣۚ-مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(30) || اور کہا گیا کہ ہائے افسوس ان بندوں پر جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔ (اور کہا گیا کہ) ہائے افسوس ان بندوں پرکہ ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا مذاق ہی کرتے ہیں ۔ || ۔ (اور کہا گیا کہ) ہائے افسوس ان بندوں پرکہ ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا مذاق ہی کرتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يس آیت 30 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{یٰحَسْرَةً: ہائے افسوس۔} ممکن ہے کہ فرشتوں  نے یہ کلام کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مومنین کا کلام ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو،پہلی دو صورتوں میں  آیت کا معنی واضح ہے اور تیسری صورت میں  یہاں  حسرت سے اس کا حقیقی معنی مراد نہیں  ہو گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں  بلکہ یہاں  معنی یہ ہو گا حضرت حبیب رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قوم کے لوگ اور ان کے جیسے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، یہ اس بات کے حق دار ہیں  کہ حسرت کرنے والے ان پر حسرت کریں  اور افسوس کرنے والے ان کے حال پر افسوس کریں  کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول تشریف لائے تو یہ اس سے ٹھٹھا مذاق ہی کرتے تھے ۔( جلالین مع جمل، یس، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶ / ۲۸۷، مدارک، یس، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۹۸۷، ملتقطاً)

            نوٹ:اس آیت کی تفسیر میں  مفسرین کے اور اقوال بھی تفاسیر میں  موجود ہیں ،ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے علماءِ کرام عربی تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں  ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now