{وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ: اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے۔} یعنی جہنم کا عذاب تو آخرت میں ہو گا جبکہ اگر ہم چاہتے تو دنیا میں بھی ان کے کفر کی سزا کے طور پر ان کی آنکھیں مٹا کر انہیں اندھا کردیتے ،پھر وہ جلدی سے راستے کی طرف چلنے کے لئے جاتے تو انہیں کہاں سے دکھائی دیتا کیونکہ ہم نے تو انہیں اندھا کر دیا تھا،لیکن ہم نے ایسا نہ کیا اور اپنے فضل و کرم سے آنکھ کی نعمت ان کے پاس باقی رکھی، تو اب ان پر حق یہ ہے کہ وہ شکر گزاری کریں کفر نہ کریں۔( خازن، یس، تحت الآیۃ: ۶۶، ۴ / ۱۱، جمل، یس، تحت الآیۃ: ۶۶، ۶ / ۳۰۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يس آیت 66 تفسیر