قرآن - 10:100 سورہ يونس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

100
وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تُؤۡمِنَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَجۡعَلُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ

Transliteration: (Wa maa kaana linafsin an tu'mina illaa bi iznil laah; wa yaj'alur rijsa 'alal lazeena laa ya'qiloon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(100) || اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے اور عذاب ان پر ڈالتا ہے جنہیں عقل نہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور کسی جان کو قدرت نہیں کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیرایمان لے آئے اوراللہ ان لوگوں پر عذاب ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں ۔ || اور کسی جان کو قدرت نہیں کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیرایمان لے آئے اوراللہ ان لوگوں پر عذاب ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 100 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ:اور کسی جان کو قدرت نہیں۔} خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا ہے تو بندہ اپنے اختیار سے ایمان قبول کرتا ہے، اپنے چاہنے کی وجہ سے وہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہدایت کا ارادہ نہ کرے تو بندہ اپنی رَغْبت سے کفر پر رہتا ہے اور اس رغبت کا عذاب پاتا ہے۔ لہٰذا اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بندہ مجبور ہے کیونکہ بندے کی رغبت بھی مَشِیَّتِ الٰہی میں داخل ہے۔ مجبور کرنے کی بات تب ہو جب آدمی کفر پر اس طرح مجبور ہو جیسے رعشے میں مبتلا آدمی کے ہاتھ کانپتے ہیں کہ اگرچہ وہ کتنا ہی اسے روکنا چاہے روک نہیں پاتا تو اگر کوئی آدمی کفر پر اس طرح مجبور ہے کہ وہ دل سے ایمان لانا چاہتا ہے مگر اسے قدرت ہی نہیں ، وہ ایمان لاہی نہیں پاتا، اس کا دل تصدیق ہی نہیں کرتا اور اس کی زبان اقرارِ اسلام کرتی ہی نہیں پھر تو کہا جائے گا کہ اسے کفر پر مجبور کردیا گیا لیکن اگر دل میں قبول کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن پھر بھی کوئی ایمان قبول نہیں کرتا تو وہ ہرگز مجبور نہیں ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now