قرآن - 10:16 سورہ يونس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

16
قُل لَّوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوۡتُهُۥ عَلَيۡكُمۡ وَلَآ أَدۡرَىٰكُم بِهِۦۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيكُمۡ عُمُرٗا مِّن قَبۡلِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ

Transliteration: (Qul law shaaa'al laahu maa talawtuhoo 'alaikum wa laaa adraakum bihee faqad labistu feekum 'umuran min qablih; afalaa ta'qiloon)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ ﳲ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(16) || تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ: اگر اللہ چاہتا تو میں تمہارے سامنے اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ تمہیں اس سے خبردار کرتا تو بیشک میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟ || تم فرماؤ: اگر اللہ چاہتا تو میں تمہارے سامنے اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ تمہیں اس سے خبردار کرتا تو بیشک میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 16 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکین سے فرما دیں جنہوں نے قرآن میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو مجھ پر نہ تویہ قرآن نازل کیا جاتا اور نہ میں تمہارے سامنے اس کی تلاوت کرتا اور نہ تمہیں خبردار کیا جاتا لہٰذا اس کی تلاوت محض اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے، نیز میں اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے تم میں چالیس سال کا عرصہ گزار چکا ہوں اور اس زمانے میں تمہارے پاس کوئی کتاب نہیں لایا اور نہ تمہیں پہلے ایسی کوئی چیز سنائی ہے ، تم نے میرے اَحوال کا خوب مُشاہدہ کیا ہے، میں نے کسی سے ایک حرف نہیں پڑھا۔ کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ، اس کے بعد یہ عظیم کتاب لایا ہوں جس کے سامنے ہر ایک فصیح کلام پَست اور بے حقیقت ہوگیا، اس کتاب میں نفیس عُلوم ہیں ، اُصول و فُروع کا بیان ہے، اَحکام و آداب میں مکارمِ اَخلاق کی تعلیم ہے، غیبی خبریں ہیں ،اس کی فصاحت و بلاغت نے ملک بھر کے فصیح و بلیغ افراد کو عاجز کردیا ہے، ہر عقلِ سلیم رکھنے والے کے لئے یہبات سورج سے زیادہ روشن ہوگئی ہے کہ ایسا کلام اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر ممکن ہی نہیں تو کیا تمہیں عقل نہیں کہ اتنا سمجھ سکو کہ یہ قرآن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے مخلوق کی قدرت میں نہیں کہ اس کی مثل بنا سکے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۶، ۲ / ۳۰۵-۳۰۶)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now