قرآن - 10:23 سورہ يونس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

23
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمۡ إِذَا هُمۡ يَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۖ مَّتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

Transliteration: (Falammaaa anjaahum izaa hum yabghoona fil ardi bighairil haqq; yaaa aiyuhannaasu innamaa bagh yukum 'alaaa anfusikum mataa'al hayaatid dunyaa thumma ilainaa marji'ukum fanunabbi 'ukum bimaa kuntum ta'maloon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْۙ-مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا٘-ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(23) || پھر اللہ جب انہیں بچا لیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اے لوگو تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر جب اللہ انہیں بچا لیتا ہے تواس وقت وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں ۔ اے لوگو! تمہاری زیادتی صرف تمہارے ہی خلاف ہے ۔ دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھالو پھر تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہے تواس وقت ہم تمہیں بتادیں گے جوتم کیا کرتے تھے۔ || پھر جب اللہ انہیں بچا لیتا ہے تواس وقت وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں ۔ اے لوگو! تمہاری زیادتی صرف تمہارے ہی خلاف ہے ۔ دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھالو پھر تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہے تواس وقت ہم تمہیں بتادیں گے جوتم کیا کرتے تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 23 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ:پھرجب اللہ انہیں بچا لیتا ہے۔} یعنی جب اللہ تعالیٰ طوفان کی موجوں میں پھنسے ہوؤں اور اپنی ہلاکت کو یقینی جاننے والوں کو اس مصیبت سے بچا لیتا ہے تواس وقت وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں اور اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و مَعْصِیَت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ اے لوگو! تمہاری زیادتی کا وبال تمہاری طرف ہی لوٹے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اس میں کچھ نقصان نہیں۔تم دنیا کی زندگی سے تھوڑا عرصہ فائدہ اٹھالو پھر تمہیں مرنے کے بعد ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تواس وقت ہم تمہیں بتادیں گے جوتم اچھے برے اعمال کیا کرتے تھے اور ان کی تمہیں جزا دیں گے۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۳، ۲ / ۳۰۹، صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۸۶۳، ملتقطاً)

مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور خوشحالی میں اسے بھول جانا کافروں کا طریقہ ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور خوشحالی کے وقت بھول جانا حقیقت میں کافروں کا طریقہ ہے، افسوس کے آج کل مسلمان بھی عملی اعتبار سے اس میں مبتلا ہیں۔ اولاد بیمار ہوئی یا خود کو کوئی خطرناک بیماری لگ گئی یا کوئی قریبی عزیز ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہوگیا تو نماز، ذکر، دعا، تلاوت، صدقہ و خیرات، مسجدوں کی حاضری اور مزید بہت کچھ شروع ہوجاتا ہے اور جیسے ہی معاملہ ختم ہوا تو کہاں کی نماز و مسجد اور کہاں کی ذکر و تلاوت؟ دوبارہ پھر اپنی پرانی دنیا میں لوٹ جاتے ہیں۔ مسلمان کا قول تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا جینا مرنا سب اللہ کیلئے ہے ،لیکن افسوس کہ آج مسلمان کا عمل اِس کے خلاف نظر آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now