قرآن - 10:33 سورہ يونس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

33
كَذَٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓاْ أَنَّهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ

Transliteration: (Kazaalika haqqat Kalimatu Rabbika 'alal lazeena fasaqooo annahum laa yu'minoon)

ترجمہ: کنزالایمان - كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(33) || یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان یونہی نافرمانوں پر تیرے رب کے یہ کلمات ثابت ہوچکے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ || یونہی نافرمانوں پر تیرے رب کے یہ کلمات ثابت ہوچکے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 33 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ كَذٰلِكَ حَقَّتْ:یونہی ثابت ہوچکے۔} یعنی جس طرح یہ مشرکین حق سے گمراہی کی طرف پھیر دئیے گئے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے علمِ اَزلی میں اُس کا جو حکم اور قضا تھی وہ ان لوگوں پر ثابت ہو چکی جنہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی بجائے اس کی نافرمانی کی اور اس سے کفر کیا۔یہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کی تصدیق کریں گے نہ اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تصدیق کریں گے ۔ (طبری، یونس، تحت الآیۃ: ۳۳، ۶ / ۵۵۹)

            یاد رہے کہ اس آیت میں رب کی بات سے مرادتقدیر الٰہی ہے یعنی تقدیرمیں یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے یا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان’’ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ‘‘(اعراف:۱۸) یعنی ہم ان سے دوزخ بھریں گے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۳۱۴، جلالین، یونس، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۱۷۳، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now