Transliteration: (Innal laaha laa yazlimun naasa shai'anw wa laakin nannaasa anfusahum yazlimoon)
{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْــٴًـا :بیشک اللہ لوگوں پرکوئی ظلم نہیں کرتا۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مشرکین کی عقل ، سماعت اور بصارت اللہ تعالیٰ نے سَلب فرما لی ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت حاصل نہیں کر سکتے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہ لوگوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کاظلم نہیں کیونکہ کفار کا ہدایت سے محروم ہونا ان کے اپنے کرتوتوں اور ضد و عناد کے سبب ہے ، یہ نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان میں حق قبول کرنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں کی تھی بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ صلاحیت ان میں پیدا کی مگر انہوں نے خود اسے تباہ کردیا تو قصور خود ان کا ہے کسی اور کا نہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 44 تفسیر