Transliteration: (Wa maa takoonu fee sha'ninw wa maa tatloo minhu min qur'aaninw wa laa ta'maloona min 'amalin illaa kunnaa 'alaikum shuhoodan iz tufeedoona feeh; wa maa ya'zubu 'ar Rabbika min misqaali zarratin fil ardi wa laa fis samaaa'i wa laaa asghara min zaalika wa laaa akbara illaa fee Kitaabin Mubeen)
{وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ:اور تم کسی حال میں بھی ہو۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پرشاہد اور ہر چیز کو جاننے والا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خالق ہے نہ اِیجاد کرنے والا، بندوں کی ظاہری اور باطنی اَعمال میں سے جو چیز بھی موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کے وجود میں لانے سے ہی موجود ہے اور جو اِیجاد کرنے والا ہوتا ہے وہ اس چیز کو جانتا بھی ہے لہٰذا نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَعمال و اَحوال، تلاوت ِ قرآن، اُمورِ دُنیویہ و حاجت ِ ضروریہ میں مصروفیت اور اسی کے ساتھ تمام لوگوں کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور وہ ان سب پر گواہ ہے۔پھر فرمایا کہ زمین و آسمان میں ایک ذرے کی مقدار بھی کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے دور اور اس کے علم سے پو شیدہ نہیں اور اس ذرے سے چھوٹی یا بڑی کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو روشن کتاب یعنی لَوحِ محفوظ میں درج نہ ہو۔(تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۶۱، ۶ / ۲۷۲-۲۷۳، بیضاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۱، ۳ / ۲۰۵)
یہ آیتِ مبارکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علم، قدرت اور اس کی عظمت کے اظہار کیلئے ہے اور اسی میں ہمارے لئے تنبیہ اور نصیحت ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے تمام اَعمال کو ہر وقت، ہر لمحہ دیکھ رہا ہے تو اس کریم ذات کی حیا اور خوف سے ہمیں اس کی نافرمانی کے کاموں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا حقیقی خوف اور اپنی نافرمانی سے بچتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے،اٰمین۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 61 تفسیر