Transliteration: (Alaaa inna lillaahi man fis samaawaati wa man fil ard; wa maa yattabi'ul lazeena yad'oona min doonil laahi shurakaaa'; iny yattabi'oona illaz zanna wa in hum illaa yakhrusoon)
{اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ:سن لو! بیشک سب کا مالک اللہ ہی ہے۔} اس آیت سے پہلے آیت نمبر 55 میں ارشاد ہوا تھا کہ ’’ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘ اور اس آیت میں ارشاد ہوا ’’ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘ ان دونوں آیتوں کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عقل والے ہوں یا بے عقل تمام جمادات، نباتات، حیوانات، جن ، انسان اور فرشتے سب کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے اور جب ہر چیز اس کی مَملوک ہے تو ان میں سے کوئی معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس دلیل کی بنا پر ان کی عبادت کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگارہے ہیں اور بے دلیل محض گمانِ فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک کی پرستش باطل ہے۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۶۶، ۶ / ۲۷۹، ملخصاً)یہ تو حید کی ایک عمدہ دلیل ہے اوراس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و نعمت کا اظہار فرماتا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 66 تفسیر