قرآن - 10:70 سورہ يونس ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

70
مَتَٰعٞ فِي ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ ٱلۡعَذَابَ ٱلشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ

Transliteration: (Mataa'un fiddunyaa thumma ilainaa marji'uhum thumma nuzeequhumul 'azaabash shadeeda bimaa kaanoo yakfuroon)

ترجمہ: کنزالایمان - مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ(70) || دنیا میں کچھ برت لینا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بدلہ ان کے کفر کا۔ ترجمہ: کنزالعرفان دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کے بدلے میں شدیدعذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ || دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کے بدلے میں شدیدعذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 70 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا:دنیا میں تھوڑا سافائدہ اٹھانا ہے۔}اس آیت میں کچھ لوگوں کے اِس شُبہے کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھنے والے بہت سے افراد عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور دنیاوی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ ناکام کہاں سے ہوئے؟ ان کے شبہ کے ازالے کیلئے فرمایا گیا کہ یہ عارضی آرام ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار انجام کا ہے اور ان کاانجام خراب ہی ہے ۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳ / ۸۸۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now