Transliteration: (Falyawma nunajjeeka bibadanika litakoona liman khalfaka Aayah; wa inna kaseeran minan naasi 'an aayaatinaa laghaafiloon)
{فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ:آج ہم تیری لاش کو بچالیں گے ۔} علماءِ تفسیر کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ان کی ہلاکت کی خبر دی تو بنی اسرائیل میں سے بعض کو شُبہ رہا اور اس کی عظمت و ہَیبت جوان کے قُلوب میں تھی اس کے باعث انہیں اس کی ہلاکت کا یقین نہ آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا نے فرعون کی لاش ساحل پر پھینک دی، بنی اسرائیل نے اس کو دیکھ کر پہچانا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۲، ۲ / ۳۳۲-۳۳۳)
{وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ:اور بیشک لوگ ہما ری نشانیوں سے ضرور غافل ہیں۔}اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا اور فرعون کا انجام ذکر کیا اور اس واقعے کا اختتام اس کلام پر فرمایا۔ اس میں خطاب نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے تاکہ وہ اپنی امت کو دلائل سے اِعراض کرنے پر ڈرائیں اور ان واقعات میں غورو فکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دیں یہی ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصود ہے۔(تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۲، ۶ / ۲۹۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ يونس آیت 92 تفسیر