قرآن - 44:12 سورہ الدخان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

12
رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ

Transliteration: (Rabbanak shif 'annal 'azaaba innaa mu'minoon)

ترجمہ: کنزالایمان - رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ(12) || اس دن کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔ (اس دن کہیں گے) اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے، ہم ایمان لاتے ہیں ۔ || ۔ (اس دن کہیں گے) اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے، ہم ایمان لاتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الدخان آیت 12 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ: اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے۔} یعنی جس دن وہ دھواں لوگوں کو ڈھانپ لے گا اس دن وہ کہیں گے :یہ ایک دردناک عذاب ہے، اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ ،ہم سے عذاب دور کردے، ہم ایمان لاتے ہیں اور تیرے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اور قرآن پاک کی تصدیق کرتے ہیں ،چنانچہ اس قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دعا فرمائیں اگر قحط دور ہو  گیا تو ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں گے۔( تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۹ / ۶۵۷، روح المعانی، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۳ / ۱۶۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now