قرآن - 44:50 سورہ الدخان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

50
إِنَّ هَٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمۡتَرُونَ

Transliteration: (Inna haazaa maa kuntum bihee tamtaroon)

ترجمہ: کنزالایمان - ذُقْ ﳐ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ(49)اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ(50) || چکھ ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے۔ بیشک یہ ہے وہ جس میں تم شبہ کرتے تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان چکھ۔ تو تَوبڑا عزت والا، کرم والا ہے۔ بیشک یہ وہ ہے جس میں تم شک کرتے تھے۔ || چکھ۔ تو تَوبڑا عزت والا، کرم والا ہے۔ بیشک یہ وہ ہے جس میں تم شک کرتے تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الدخان آیت 50 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ذُقْ: چکھ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس جہنمی کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا تو اس وقت ا س کی تذلیل اور توہین کرتے ہوئے اس سے کہا جائے گا: اس ذلت اور اِہانت والے عذاب کوچکھ، تواپنے گمان میں  اپنی قوم کے نزدیک بڑا عزت والا کرم والا ہے، تو یہ تیری تعظیم ہو رہی ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں  :ابو جہل نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے کہا:مکہ کے ان دو پہاڑوں  کے درمیان مجھ سے زیادہ عزت والا اور کرم والا کوئی نہیں  تو خدا کی قسم! آپ اور آپ کا رب میرا کچھ نہیں  بگاڑ سکتے۔اس کے لئے وعید کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے عذاب کے وقت یہ طعنہ دیا جائے گا۔

             اگلی آیت میں  فرمایا گیا کہ کفار سے یہ بھی کہا جائے گا: بیشک جو عذاب تم دیکھ رہے ہو یہ وہ عذاب ہے جس میں  تم شک کرتے تھے اور اس پر ایمان نہیں  لاتے تھے۔(روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۸ / ۴۲۸، خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۴ / ۱۱۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now