قرآن - 51:25 سورہ الذاريات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

25
إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ

Transliteration: (Iz dakhaloo 'alaihi faqaaloo salaaman qaala salaamun qawmum munkaroon)

ترجمہ: کنزالایمان - اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌۚ-قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ(25) || جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا سلام ناشناسا لوگ ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام، (ابراہیم نے) فرمایا، ’’سلام ‘‘اجنبی لوگ ہیں ۔ || جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام، (ابراہیم نے) فرمایا، ’’سلام ‘‘اجنبی لوگ ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الذاريات آیت 25 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ: جب وہ اس کے پاس آئے۔} جب فرشتے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آئے تو انہوں  نے کہا: سلام۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھی جواب میں  سلام فرمایا اور کہا کہ یہ اجنبی لوگ ہیں ۔( جلالین، الذّاریٰت، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۴۳۳، ملخصاً)یہ آپ نے دل میں  فرمایا کہ میں  ان سے واقف نہیں  ، مُنکَر بمعنی اجنبی ہے، اسی لئے قبر کے فرشتوں  کو مُنکَر ونکیر کہا جاتا ہے کہ وہ اجنبی ہوتے ہیں ۔

آیت ’’اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے

(1)… سلام بڑی پرانی سنت ہے کہ دوسرے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین میں  بھی تھی بلکہ حدیث ِمبارک سے ثابت ہے کہ سلام کا طریقہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے پیش کیا گیا۔

(2)… آنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے خواہ سارے لوگ سلام کریں  یا ان میں  سے ایک ظاہر یہ ہے کہ یہاں  سب نے سلام کیا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now