قرآن - 51:37 سورہ الذاريات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

37
وَتَرَكۡنَا فِيهَآ ءَايَةٗ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ

Transliteration: (Wa taraknaa feehaaa aayatal lillazeena yakhaafoonal 'azaabal aleem)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَﭤ(37) || اور ہم نے اس میں نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ || اور ہم نے اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الذاريات آیت 37 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً: اور ہم نے اس میں  نشانی باقی رکھی۔} یعنی ہم نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے اس شہر میں  کافروں  کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی تباہی اور بربادی کی نشانی ان لوگوں کے لیے باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں  تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں  اور ان لوگوں  جیسے افعال کرنے سے باز رہیں  اور وہ نشانی ان کے اُجڑے ہوئے شہر تھے ،یا وہ پتھر تھے جن سے وہ ہلاک کئے گئے ،یا وہ کالا بدبو دار پانی تھا جو اس سرزمین سے نکلا تھا۔( ابو سعود، الذّٰریٰت، تحت الآیۃ: ۳۷، ۵ / ۶۳۱، جلالین، الذّٰریٰت، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۴۳۳، ملتقطاً)

لواطَت کرنے اور ا س کی ترغیب دینے والوں  کے لئے نشانِ عبرت:

حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم جس جرم کی بنا پر تباہ و بربادکر دی گئی اور دنیا میں انہیں  عبرت کا نشان بنا دیا گیا وہ مَردوں  کا آپس میں  اور لڑکوں  کے ساتھ بد فعلی کرنا تھا،ان کے دردنا ک انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو فی زمانہ مَردوں  کے ساتھ ہم جنس پرستی کرنے اوراس کی ترغیب دینے کے لئے باقاعدہ تقریبات منعقد کرنے اور اسے قانونی جواز مُہَیّا کرنے میں  مصروف ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now