قرآن - 51:42 سورہ الذاريات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

42
مَا تَذَرُ مِن شَيۡءٍ أَتَتۡ عَلَيۡهِ إِلَّا جَعَلَتۡهُ كَٱلرَّمِيمِ

Transliteration: (Maa tazaru min shai'in atat 'alaihi illaa ja'alat hu karrameem)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ(41)مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِﭤ(42) || اور عاد میں جب ہم نے اُن پر خشک آندھی بھیجی۔ جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کر چھوڑتی۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور قومِ عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پرخشک آندھی بھیجی۔ وہ جس چیز پر گزرتی تھی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کرچھوڑتی ۔ || اور قومِ عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پرخشک آندھی بھیجی۔ وہ جس چیز پر گزرتی تھی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کرچھوڑتی ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الذاريات آیت 42 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ فِیْ عَادٍ: اور عاد میں ۔} اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ عاد کو ہلاک کرنے میں  بھی قابلِ عبرت نشانیاں  ہیں  ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر خشک آندھی بھیجی جس میں  کچھ بھی خیرو برکت نہ تھی اوریہ ہلاک کرنے والی ہوا تھی اور یہ ہوا آدمی ،جانور یا دیگر اَموال میں  سے جس چیز کوبھی چھو جاتی تھی تو ا سے ہلاک کرکے ایسا کردیتی تھی کہ گویا وہ مدتوں  کی ہلاک شدہ اور گلی ہوئی ہے۔( خازن، الذّٰریٰت، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲، ۴ / ۱۸۴، ملخصاً)

          نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد پر صرف ا س حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہوا بھیجی، پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: ’’ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ(۴۱) مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ(۴۲)‘‘۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الذاریات، ۵ / ۱۸۱، الحدیث: ۳۲۸۴)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now