Transliteration: (Wa min qablihee kitaabu Moosaaa imaamanw-wa rahmah; wa haazaa Kitaabum musad diqul lisaanan 'Arabiyyal liyunziral lazeena zalamoo wa bushraa lilmuhsineen)
{وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور
رحمت تھی۔} اس سے پہلی آیت میں کفار کا ایک اعتراض ذکر ہوا کہ اگر اس قرآن
میں کوئی بھلائی ہوتی تو ہم غریب لوگوں سے پہلے ایمان لے
آتے ،یہاں اس اعتراض کا رد کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ
ہے کہ کفار کی یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے حالانکہ قرآنِ مجید سے پہلے حضرت
موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تورات کا نازل ہونا اور اس
کتاب کا اللہ تعالیٰ کے دین کی پیروی
کرنے والوں کا پیشوا ہونا اوراس پر ایمان لانے والوں اور اس
کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے والوں کےلئے رحمت ہونا
انہیں خود تسلیم ہے اور یہ قرآن جس کے بارے میں کفارِمکہ ایسی بیہودہ
گفتگو کرتے ہیں ،اس کی شان تو یہ ہے کہ یہ عربی زبان
میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب اور تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے جو اس لئے نازل ہوئی ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور
نیکوں کیلئے بشارت کا ذریعہ ہو۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸ / ۴۷۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 12 تفسیر