Transliteration: (Innal lazeena qaaloo Rabbunal laahu summas taqaamoo falaa khawfun 'alaihim wa laahum yahzanoon)
{اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے۔} اس سے پہلی آیات
میں توحید اور نبوت کے دلائل بیان ہوئے ،منکروں کے شُبہات
ذکر کر کے ان کاجواب دیا گیا اور اب یہاں سے توحید و رسالت پر ایمان
لانے اور اس پر ثابت قدم رہنے والوں کی جزابیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ
اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ
جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف
ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف
کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ ہمیشہ جنت
میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ
دیا جائے گا۔( تفسیرکبیر
، الاحقاف ، تحت الآیۃ : ۱۳-۱۴ ، ۱۰ / ۱۳-۱۴ ، مدارک ، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ص۱۱۲۶، روح البیان، الاحقاف، تحت
الآیۃ: ۱۳-۱۴، ۸ / ۴۷۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 13 تفسیر