Transliteration: (Ulaaa'ikal lazeena nata qabbalu 'anhum ahsana maa 'amiloo wa natajaawazu 'an saiyiaatihim feee Ashaabil jannati Wa'das sidqil lazee kaanoo yoo'adoon)
{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا
عَمِلُوْا: یہی وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم
قبول فرمائیں گے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت میں بیان کئے گئے
وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دنیا میں کئے ہوئے اچھے اعمال
قبول فرما کرہم ان پر ثواب دیں گے اور ان کی خطاؤں سے
درگُزر فرماکر ان سے کوئی مُواخذہ نہیں فرمائیں گے ، یہ لوگ
جنت والوں میں سے ہیں ، یہ سچا وعدہ ہے جو دنیا
میں ان سے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ مبارک سے کیا جاتا تھا۔(جلالین مع صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۶، ۵ / ۱۹۳۷، تفسیرکبیر، الاحقاف، تحت
الآیۃ: ۱۶، ۱۰ / ۲۰-۲۱، خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴ / ۱۲۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 16 تفسیر