Transliteration: (Qul ara'aytum maa tad'oona min doonil laahi aroonee maazaa khalaqoo minal ardi am lahum shirkun fis samaawaati eetoonee bi kitaabim min qabli haazaaa aw asaaratim min 'ilmin in kuntum saadiqeen)
{قُلْ اَرَءَیْتُمْ: تم فرماؤ: بھلا بتاؤ۔} اس آیت میں بتوں وغیرہ کی پوجا کرنے والوں کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کافروں سے فرما دیں : اللہ تعالیٰ کی بجائے جن بتوں وغیرہ کی تم عبادت کرتے ہو ، اگر وہ حقیقی معبود ہیں تو اس کی دلیل کے طور پر مجھے دکھاؤکہ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایاہے یا آسمانوں کو پیدا کرنے میں ان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شرکت ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ وہم ہوا کہ یہ معبود ہونے کا کوئی حق رکھتے ہیں ؟ اور اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کرنے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تو اس کی دلیل کے طور پرمیرے پاس اس قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کوئی کتاب لے آؤ۔اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ مجید توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کو بیان فرماتا ہے اور اس سے پہلے جو کتاب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اس میں بھی یہی بیان ہے،تو تم اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤجس میں تمہارے دِین یعنی بت پرستی کی شہادت ہو، یااگر تم کتاب نہیں لاسکتے تو کوئی ایسا مُستَنَد مضمون ہی لے آؤ جوپہلے لوگوں سے منقول ہوتا چلا آ رہا ہو اور اس میں ا س بات کی گواہی موجود ہو کہ تمہارے معبود عبادت کے مستحق ہیں اور جب تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی تو تم کس بنیاد پر بتوں کی عبادت کرتے ہو ۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۴، ۸ / ۴۶۳-۴۶۴، مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۱۲۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 4 تفسیر