Transliteration: (Wa izaa hushiran naasu kaanoo lahum a'daaa'anw wa kaanoo bi'ibaadatihim kaafireen)
{وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ: اور جب لوگوں کا حشر ہوگا۔} یعنی دنیا
میں تو بتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے پکارنے والوں کی پکار سننے اورسمجھنے کی صلاحیت ہی
نہیں رکھتے اور قیامت کے دن ان کا حال یہ ہو گا کہ اس دن جب
قبروں سے نکالنے کے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ بت
ا پنے پُجاریوں کے دشمن ہوں گے اور انہیں نفع کی
بجائے نقصان پہنچائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر
دیں گے اور کہیں گے: ہم نے انہیں اپنی عبادت کی
دعوت نہیں دی ، درحقیقت یہ اپنی خواہشوں کے پَرَسْتار
تھے۔ (یعنی اپنی مرضی سے جس کو چاہا
خدا قرار دیدیا اور اس کی پوجا شروع کردی تو یہ حقیقت میں اپنی خواہش
کی پوجا ہوئی۔)(مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۱۲۳-۱۱۲۴، صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۶، ۵ / ۱۹۳۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 6 تفسیر