قرآن - 6:2 سورہ الأنعام ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

2
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ

Transliteration: (Huwal lazee khalaqakum min teenin summa qadaaa ajalanw wa ajalum musamman 'indahoo summa antum tamtaroon)

ترجمہ: کنزالایمان - هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًاؕ-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ(2) || وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا اور ایک مقرر وعدہ اس کے یہاں ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت کا فیصلہ فرمایا اور ایک مقررہ مدت اسی کے پاس ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو۔ || وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت کا فیصلہ فرمایا اور ایک مقررہ مدت اسی کے پاس ہے پھر تم لوگ شک کرتے ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 2 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ:وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔} اس آیت میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو کہتے تھے کہ ہم جب گل کر مٹی ہو جائیں گے توپھر کیسے زندہ کئے جائیں گے؟ انہیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمہارے باپ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ان کی نسل سے لوگ پیدا ہوئے ،پھر ا س نے ایک مدت کا فیصلہ فرمایا جس کے پورا ہوجانے پر تم مرجاؤ گے اور مرنے کے بعد اُٹھانے کی ایک مقررہ مدت بھی اسی کے پاس ہے ،پھر اے کافرو! تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک کرتے ہو حالانکہ تمہیں علم ہے کہ تمہاری تخلیق کی ابتدا کرنے والا اللہ تعالٰی ہے اور جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بدرجہ اَولیٰ قادر ہے۔( خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲، ۲ / ۳، جلالین، الانعام، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۱۲، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now