Transliteration: (Qul ara'aitum in akhazal laahu sam'akum wa absaarakum wa khatama 'alaa quloobikum man ilaahun ghairul laahi ya'teekum bih; unzur kaifa nusarriful Aayaati summa hum yasdifoon)
{ قُلْ اَرَءَیْتُمْ:تم فرماؤ، (اے لوگو!) بھلا بتاؤ۔}یہاں توحید ِ باری تعالیٰ کی دلیل پیش کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے اور علم و معرفت کا تمام نظام درہم برہم ہوجائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کون معبود ہے جوتمہیں یہ چیزیں لادے گا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ، تو اب توحید پر قوی دلیل قائم ہوگئی کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی اتنی قدرت و اختیار والا نہیں تو عبادت کا مستحق صرف وہی ہے اور شرک بدترین ظلم وجرم ہے۔
{ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ:دیکھو ہم کیسے بار بار نشانیاں بیان کرتے ہیں۔}یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ دیکھیں کہ کبھی ہم انہیں اپنی نعمتیں یاد دلا کر ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں ، کبھی سابقہ امتوں پر آنے والے عذابات یاد دلا کر اور کبھی ا س بات سے ڈراتے ہیں کہ ہم چاہیں توان کے کانوں ،آنکھوں اور دلوں کو بے کار کر دیں اور کبھی ان کے سامنے اپنی اُلوہیت، قدرت اور وحدانیت پر دلائل پیش کرتے ہیں تاکہ یہ کسی طرح ایمان لے آئیں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ ان نشانیوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ (البحر المحیط، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۱۳۵، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 46 تفسیر