قرآن - 6:47 سورہ الأنعام ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

47
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغۡتَةً أَوۡ جَهۡرَةً هَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ

Transliteration: (Qul ara'aitakum in ataakum 'azaabul laahi baghtatan aw jahratan hal yuhlaku illal qawmuz zaalimoon)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ(47) || تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک یا کھلم کھلا تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اچانک یا کھلم کھلا اللہ کا عذاب آجائے تو ظالموں کے سواکون تباہ کیا جائے گا؟ || تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اچانک یا کھلم کھلا اللہ کا عذاب آجائے تو ظالموں کے سواکون تباہ کیا جائے گا؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 47 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ:تم فرماؤ، بھلا بتاؤ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کاعذاب آنے کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :

(1)… اچانک آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جو پیشگی علامتوں کے بغیر آتا ہے اور ا س کے ذریعے کفار کو تباہ و برباد کر دیاجاتا ہے۔

(2)…کھلم کھلا آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جس کے آنے سے پہلے اس کی علامتیں نمودار ہوتی ہیں تاکہ لوگ اگر اس عذاب سے بچنا چاہیں تو اپنے کفر اور سرکشی سے توبہ کر کے بچ سکتے ہیں اور اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں عذاب میں مبتلا کر کے تباہ کر دیا جاتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now