Transliteration: (Qul ara'aitakum in ataakum 'azaabul laahi baghtatan aw jahratan hal yuhlaku illal qawmuz zaalimoon)
{ قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ:تم فرماؤ، بھلا بتاؤ۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کاعذاب آنے کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :
(1)… اچانک آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جو پیشگی علامتوں کے بغیر آتا ہے اور ا س کے ذریعے کفار کو تباہ و برباد کر دیاجاتا ہے۔
(2)…کھلم کھلا آنے والا عذاب۔ یہ وہ عذاب ہے جس کے آنے سے پہلے اس کی علامتیں نمودار ہوتی ہیں تاکہ لوگ اگر اس عذاب سے بچنا چاہیں تو اپنے کفر اور سرکشی سے توبہ کر کے بچ سکتے ہیں اور اگر وہ توبہ نہ کریں تو انہیں عذاب میں مبتلا کر کے تباہ کر دیا جاتا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 47 تفسیر