قرآن - 21:12 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

12
فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأۡسَنَآ إِذَا هُم مِّنۡهَا يَرۡكُضُونَ

Transliteration: (Falammaaa ahassoo ba'sanaaa izaa hum minhaa yarkudoon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَﭤ(12)لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْــٴَـلُوْنَ(13) || تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے۔ نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔ بھاگو نہیں اوران آسائشوں کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف (لوٹ آؤ) شاید تم سے سوال کیا جائے ۔ || تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔ بھاگو نہیں اوران آسائشوں کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف (لوٹ آؤ) شاید تم سے سوال کیا جائے ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 12 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَا:تو جب انہوں  نے ہمارا عذاب پایا۔}اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان ظالموں  نے  اللہ تعالیٰ کا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔اس پر فرشتے کے ذریعے ان سے کہا گیا کہ تم بھاگو نہیں  اوران آسائشوں  کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں  دی گئی تھیں  اور اپنے ان مکانوں  کی طرف لوٹ آؤ جن پر تم فخر کیا کرتے تھے ،شاید لوگوں  کی عادت کے مطابق تم سے تمہاری دنیا کے بارے میں  سوال کیا جائے ۔

            بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ ان آیات میں  یمن کی سرزمین میں  موجود ایک بستی میں  رہنے والے لوگوں  کا حال بیان ہوا ہے۔ اس بستی کا نام حصور (یا،حضور) ہے ،وہاں  کے رہنے والے عرب تھے ،انہوں  نے اپنے نبی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور انہیں  شہید کردیا تو  اللہ تعالیٰ نے ان پر بُخْت نصر کو مُسَلَّط کر دیا۔ اِس نے اُن کے بعض لوگوں  کو قتل کیا اور بعض کو گرفتار کرلیا، اُس کا یہ عمل جاری رہا تو وہ لوگ بستی چھوڑ کر بھاگے۔ اس پر فرشتوں  نے طنز کے طور پر ان سے کہا: تم بھاگو نہیں  اوران آسائشوں  کی طرف لوٹ آؤجو تمہیں  دی گئی تھیں  اور اپنے مکانوں  کی طرف لوٹ آؤ، شاید تم سے سوال کیا جائے کہ تم پر کیا گزری اور تمہارے مال و دولت کا کیا ہوا؟ تو تم دریافت کرنے والے کو اپنے علم اور مشاہدے سے جواب دے سکو۔( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۵ / ۴۵۸، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۳ / ۲۷۲، جمل، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۵ / ۱۲۱-۱۲۲، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳،ص۷۱۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now