Transliteration: (Qaala Rabbih kum bil haqq; wa Rabbunar Rahmaa nul musta'aanu 'alaa maa tasifoon (section 7))
{قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ:نبی نے عرض کی: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔} یہاں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا کا ذکر ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی :اے میرے رب! میرے اور ان کے درمیان جو مجھے جھٹلاتے ہیں اس طرح حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے کہ میری مدد کر اور ان پر عذاب نازِل فرما ۔ چنانچہ حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یہ دعا قبول ہوئی اور جنگ ِبدر، جنگ ِاَحزاب اور جنگ ِحُنَین وغیرہ میں کفار مبتلائے عذاب ہوئے۔ آیت کے آخر میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا گیاکہ آپ کافروں کو وعید بیان کرتے ہوئے فرما دیں کہ ’’ ہمارا رب رحمٰن ہی ہے جس سے شرک و کفر اور بے ایمان کی ان باتوں کے خلاف مدد طلب کی جاتی ہے جو تم کرتے ہو۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳ / ۲۹۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 112 تفسیر