قرآن - 21:110 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

110
إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡتُمُونَ

Transliteration: (Innahoo ya'lamul jahra minal qawli wa ya'lamu maa taktumoon)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ(110)وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(111) || بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ اور میں کیا جانوں شاید وہ تمہاری جانچ ہو اور ایک وقت تک برتوانا ۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک اللہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو ۔ اور میں نہیں جانتا کہ شاید وہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک وقت تک کیلئے فائدہ دینا ہے۔ || بیشک اللہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو ۔ اور میں نہیں جانتا کہ شاید وہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک وقت تک کیلئے فائدہ دینا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 110 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ:بیشک  اللہ بلند آواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے۔}یعنی اے کافرو! تم جو بلند آواز سے قرآنِ مجید کی آیات کو جھٹلاتے اور اسلام پر اعتراضات کرتے ہو بے شک  اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں  سے جو حسد و عداوت تم چھپاتے ہو اسے بھی  اللہ تعالیٰ جانتا ہے تو وہ تمہیں  ا س پر جہنم کی دردناک سزا دے گا۔( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۵ / ۵۳۰)

{ وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ:اور میں  نہیں  جانتا کہ شایدوہ تمہاری آزمائش ہو ۔} یعنی میں  نہیں  جانتا کہ شاید دنیا میں  عذاب کو مُؤخَّر کرنا تمہاری آزمائش ہو جس سے تمہارا حال ظاہر ہو جائے اور  اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت کے مطابق موت کے وقت تک کیلئے تمہیں فائدہ دینا ہو تاکہ یہ تم پر حجت ہو جائے۔( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۵ / ۵۳۰)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now