Transliteration: (Inna fee haaza labalaa ghal liqawmin 'aabideen)
{اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا:بیشک اس قرآن میں کافی سامان ہے۔} یعنی قرآن کریم مومن عبادت گزاروں کو ہدایت و رہبری کے لئے کافی ہے بشرطیکہ اسے صاحب ِقرآن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیم و تفہیم کے ماتحت سمجھا جائے، محض عقل سے سمجھنا کافی نہیں اور جو اس کی پیروی کرے اور اس کے مطابق عمل کرے وہ مراد کو پہنچے اور جنت پائے گا۔ عباد ت کرنے والوں سے مراد مومنین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور ایک قول یہ ہے کہ اُمتِ مُحمدیَّہ مراد ہے جو پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں ۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۳ / ۲۹۷)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 106 تفسیر