قرآن - 21:16 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

16
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ

Transliteration: (Wa maa khalaqnas samaaa'a wal arda wa maa bainahumaa laa'ibeen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ(16) || اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب فضول پیدا نہیں کیا۔ || اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب فضول پیدا نہیں کیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 16 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب فضول پیدا نہیں  کیا۔}  اللہ تعالیٰ نے آسمان ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان عجائبات ہیں ،ان سب کو فضول پیدا نہیں  کیاکہ ان سے کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ انہیں  پیدا کرنے میں  اس کی کثیر حکمتیں  ہیں  اوران بے شمار حکمتوں  میں  سے چند یہ ہیں  کہ ان اَشیاء سے  اللہ تعالیٰ کے بندے اس کی قدرت و حکمت پر اِستدلال کریں  اور انہیں   اللہ تعالیٰ کے اوصاف و کمال کی معرفت حاصل ہو ، حق وباطل میں  فرق ہو جائے ،لوگ غوروفکرکریں ، غفلت سے بیدارہوں  ،نیک اعمال کریں  اور آخرت میں  اچھی جزا پائیں  اور اس طرح کے خیال کوذہن میں  نہ آنے دیں  کہ عالَم کا سارانظام ایک کھیل تماشہ ہے اور ہرشخص دنیامیں  جوبھی کرتاپھرے اس سے کوئی پوچھنے والانہیں اورنہ ہی آخرت میں  اس سے سوال وجواب ہوگا جیسا کہ بطورِ خاص دَہریوں  کا عقیدہ ہے اور روز بروز ان لوگوں  کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now